فوج اور سول قیادت ایک ساتھ

تین دن پہلے سول اور فوجی قیادت کی جی ایچ کیو میں میٹنگ ہوئی. اس اعلی اجلاس میں ملکی صورت حال پر تبادہ خیال کیا گیا. اس اجلاس میں حکومتی وزرا خواجہ آصف، اسحاق ڈار کے علاوہ امور خارجہ کے سیکرٹری اور مشیر بھی شامل تھے. فوج کی طرف سے آرمی چیف کے ساتھ ڈجی آیی ایس آیی اور اعلی فوجی افسران بھی شریک تھے. عوام یہ بات جانتی ہے کے ملک کے وزیر اعظم صحت ناساز ہونے کی وجہ سے ملک میں موجود نہیں ہے اور اس وقت غیر ملکی طاقتوں کو یہ بات بار آور کرانے کی ضرورت ہے کے ملکی قیادت میں اتحاد ہے.
بلوچستان میں ڈرون حملے کے بعد یہ اجلاس اہمیت کا حامل ہے. ڈرون حملے کے بعد حکومت کی طرف سے باضابطہ کوئی بیان نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے عوام میں اس معاملے پر بےچینی پایی جاتی ہے. اس میٹنگ کے بعد فوجی اور سول قیادت نے باضابطہ امریکی ڈرون حملے کی مذمت کی ہے. اس کے علاوہ پاک چین راہداری اور ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات پر بات کی. ضرب عضب کی کامیابی سے ملک میں امن اور استحکام ہوا ہے اور اس بات کو ا علی قیادت نے سہرایا
جی ایچ کیو میٹنگ سے یہ بات عیاں ہے کہ فوج اور سول قیادت کا ملکی معملات پر ایک موقف ہے. اسکے علاوہ بیرونی طاقتوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کے ملکی امور چلانے کے لئے قیادت موجود ہے.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s